Friday, November 3, 2023

میگھالیہ کے پراسرار کھڑے اور لیٹے پتھر جن سے جڑی انوکھی کہانیاں

 

میگھالیہ کے پراسرار کھڑے اور لیٹے پتھر جن سے جڑی انوکھی کہانیاں

وہ قسمت کا ایک جھونکا تھا جو مجھے فروری کی ایک دوپہر میگھالیہ کے نارتیانگ کے ایک پتھریلے علاقے میں لے گیا۔

ایک دہائی یا اس سے کچھ پہلے تک انڈیا کا یہ شمال مشرقی حصہ عام طور پر مسافروں کے لیے بہت دور دراز کا علاقہ سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ ملک میں سیاحوں کی سب سے پسندیدہ مقامات میں سے ایک ہے۔ اب یہاں سیاحوں کا اس قدر ہجوم ہوتا ہے کہ اکثر ٹریفک جام کی بے مثال صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی اس دن دوپہر کو ہوا تھا۔

ہم اپنے اہلِخانہ کے ساتھ ریاستی دارالحکومت شیلانگ سے چیراپونجی کے لیے ایک دن کے سفر پر نکلے تھے۔ چیرا پونجی کو کرۂ ارض پر سب سے زیادہ بارش برسنے والے مقامات میں سے ایک کے طور جانا جاتا ہے۔ تاہم گاڑیوں کی سانپ جیسی لمبی قطار بہت سست رفتاری کے ساتھ انچ بہ انچ بڑھ رہی تھی۔

وہاں دوسرے سیاحتی مقامات جیسے داوکی اور مالننونگ جانے والوں کی بھی بھیڑ تھی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہمارے صبر کا امتحان لیا جا رہا تھا۔ چار گھنٹے سے زیادہ ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد دن کا جو کچھ حصہ بچا تھا اس کا فائدہ اٹھانے کی آخری کوشش کے طور پر یہ مشورہ دیا گیا کہ شہر کو ہی لوٹ چلیں۔

ہم نے آن لائن شیلانگ کے آس پاس قابل دید مقامات کی تلاش شروع کر دی۔ ان میں سے زیادہ تر جانے پہچانے تھے لیکن پھر ایک انجان سا لیکن دلچسپ نام سامنے آيا۔

اس میں کسی نے ذکر کیا تھا کہ ’پراسرار یک سنگی کے لیے نارتیانگ کا دورہ کریں۔‘

اس کی زیادہ تفصیلات نہیں تھیں بس لمبے کھڑے پتھروں کی ایک پُرسکون نظر آنے والی تصویر کے ساتھ ’پراسرار‘ کا لفظ لکھا ہوا تھا۔

پھر گوگل میپ ہمارے بچاؤ کے لیے آیا اور اس نے ہمیں بتایا کہ یہ جگہ شیلانگ کے جنوب میں بمشکل دو گھنٹے کی مسافت پر ہے اور راستہ بھی ٹریفک سے خالی ہے۔

یہ جگہ شیلانگ سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے

،تصویر کا ذریعہSATARUPA PAUL

،تصویر کا کیپشن

یہ جگہ شیلانگ سےبمشکل دو گھنٹے کی مسافت پر ہے

اس طرح ہم نارتیانگ کے دیوہیکل مونولیتھس یعنی یک سنگیوں کے پاس کھڑے تھے۔ اگرچہ اسی طرح کے گرینائٹ کے بلاک سے سیدھے ستونوں یا افقی سلیبوں میں تراشے گئے ڈھانچے پورے میگھالیہ میں مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں لیکن نارتیانگ وہ علاقہ ہے جہاں یہ سب سے زیادہ گھنے ہیں اور یہاں یہ سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔

 

جیسے ہی ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے ایک چھوٹی پہاڑی پر ہر سائز کے کئی سو مونولتھس دیکھے، کچھ تو پڑے ہوئے تھے جبکہ کچھ لمبے اور بڑے درختوں کے ساتھ بلند قامتی کے ساتھ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کھڑے تھے۔ وہاں ایک قسم کی دائمی کہر کی چادر تنی تھی جس نے اس جگہ کی پراسراریت میں میں اضافہ کیا ہوا تھا۔

اس جگہ کے بارے میں بتانے کے لیے وہاں کوئی نہیں تھا۔ البتہ وہاں کچھ دھول آلود سائن بورڈ تھے۔ ان میں درج چند حقائق میں سے ایک نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔

اس میں لکھا تھا کہ ’سب سے لمبا پتھر آٹھ میٹر اونچا اور 18 انچ موٹا ہے اور جینتیا لوک کہانی کے مطابق مار پھالینگکی نامی ایک دیو نے اسے کھڑا کیا تھا۔'

میرا تجسس بڑھنے لگا اور میں پتھروں کے بارے میں مزید جاننے کا خواہشمند تھا۔ لیکن ملحقہ پارک میں فٹ بال کھیلنے والے بچوں کے ایک گروپ کے علاوہ وہاں کوئی اور نہیں تھا۔

بہر حال اس دن شام کو میں گاؤں کے ایک بزرگ خاتون سے ملا۔ ان کا نام ماریو سمبلائی تھا اور انھوں نے مجھے یک سنگی کی کہانی سنائی جو زبانی طور پر نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔

ماریو سمبلائی نے کہا کہ ’پہلے نارتیانگ میں کوئی بازار نہیں تھا اور قریب ترین بازار ریلیانگ میں تھا۔ ایسے ہی بازار کے ایک دن مار پھلانگکی نامی جینتیا دیو واپس جاتے ہوئے موسلا دھار بارش میں پھنس گیا۔

اس نے بارش سے بچنے کے لیے رالیانگ کے سربراہ کی سب سے چھوٹی بیٹی سے چھتری مانگی لیکن اس نے چھتری دینے کے بجائے اس کی افسانوی طاقت کو جانچنا چاہا۔

اس نے چڑھاتے ہوئے کہا کہ ’تم بازار میں اس بڑے پتھر کو اٹھا کر چھتری کے طور پر استعمال کیوں نہیں کر لیتے؟ اس کے چیلنج کو قبول کر کے اس نے ایسا ہی کیا لیکن نارتیانگ پہنچنے سے پہلے بارش رک گئی تو اس نے اس پتھر کو جنگل میں پٹخ دیا۔‘

سمبلائی نے جو قصہ سنایا وہ میرے غیر مانوس کانوں کو حقیقت سے زیادہ فسانہ لگا۔ میرے چہرے پر غیر یقینی کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے انھوں نے کہا: 'ہمارے آباؤ اجداد آج کے اوسط پانچ فٹ کچھ انچ کے میگھالیہ کے آدمی نہیں تھے، وہ اس وقت کافی دیو قامت ہوتے تھے۔ مار پھلانگکی کا قد سات فٹ لمبا تھا مارس (ایک اعزازی لقب جو مضبوط، طاقتور اور ایماندار سیاستدانوں کو دیا جاتا تھا) کا ایک سئیم (سردار) تھا۔'

وہاں کوئی نہیں تھا

،تصویر کا ذریعہSATARUPA PAUL

،تصویر کا کیپشن

وہاں کوئی نہیں تھا بس ایک سائن بورڈ پر اس کے بارے میں مختصرا لکھا ہوا تھا

پھر میں نے پوچھا کہ آخر ایک جگہ اتنے یک سنگی کیسے جمع ہو گئے؟ سمبلائی کے مطابق پتھر کے پاس سے گزرنے والے لوگ کسی بھرے پڑے بازار کی طرح کی آوازیں سن سکتے تھے۔

پھر یہ سمجھا گیا کہ یہ پتھر مقدس تھا اور اس لیے اس کے ارد گرد کے جنگل کو بازار بنانے کے لیے صاف کیا جائے۔

اس جگہ کو خوبصورت بنانے کے لیے اس طرح کے مزید یک سنگی یا اکہرے پتھر لائے گئے جس کے نتیجے میں آج یہاں ان کا ایک بڑا زخیرہ نظر آتا ہے۔

لوک کہانی نے واضح کیا کہ یہ قدیم یک سنگی طویل عرصے سے مقامی لوگوں کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ مزید جاننے کے شوق کے تحت میں نے جینتیا لوگوں اور پتھروں دونوں پر تحقیق شروع کی۔

جینتیا پور ریاست ایک مادر شاہی سلطنت تھی جو موجودہ بنگلہ دیش کے صوبہ سلہٹ سے لے کر میگھالیہ کی پہاڑیوں تک پھیلی ہوئی تھی، اور ان کے لوگوں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ غیر معمولی طور پر لمبے اور مضبوط ہوا کرتے تھے۔

تاہم اس کے سرکاری شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس کی ٹھنڈی آب و ہوا اور پہاڑیوں میں مثالی مقام کے پیش نظر، نارتیانگ نے جینتیا پور سلطنت کے موسم گرما کے دارالحکومت کے طور پر کام کیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ یک سنگی 1500 عیسوی اور 1835 عیسوی کے درمیان ان کے دور حکومت میں قائم کیے گئے تھے۔

بنارس ہندو یونیورسٹی میں قدیم ہندوستانی تاریخ و ثقافت اور آثار قدیمہ کے شعبہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ونے کمار کا کہنا ہے کہ میگھالیہ میں یک سنگی بشمول نارتیانگ کے یک سنگی ممکنہ طور پر میگالیتھک مقبروں کے طور پر کام کرتے ہوں گے۔

انھوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’میگھالیہ کے کھاسی اور جینتیا قبائل اور آسام کے ناگا مرنے والوں کے اعزاز میں اکہرے کھڑے پتھر یا پتھروں کی ترتیب تیار کرتے تھے۔‘

انھوں نے یہ باتیں دی ٹرائبل ٹریبیون میں لکھیں۔ یہ میگزین انڈیا کی قبائلی برادریوں پر مرکوز ایک آن لائن تعلیمی اشاعت ہے۔

عمودی اور افقی پتھر

،تصویر کا ذریعہTHIERRY FALISE/LIGHTROCKET VIA GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

عمودی اور افقی پتھر کیا کہتے ہیں

برطانوی حکومت کے تحت 19ویں صدی کے اوائل میں مسیحی مذہب کی آمد سے پہلے زیادہ تر جینتیائی ہندو تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے مرنے والوں کی آخری رسومات کی جاتی تھیں۔

مسٹر کمار کا کہنا ہے کہ مرنے والے کی راکھ قبیلے کے افراد لے جاتے اور کھلی ایستادہ قبر میں جمع کرتے تھے جو سنگل پتھر کے بہت بڑے سلیبوں سے بنا ہوا تھا، جس میں سے کچھ کسی چھوٹے گھر کی طرح بڑے تھے۔

انھوں نے لکھا کہ وہ ڈھانچے آج بھی نارتیانگ، چیراپونجی، جوائی، ماوفلانگ اور لائلگ کوٹ کے یک سنگی زخائر کے طور پر موجود ہیں۔

چپٹے افقی پتھر یا ڈولمین عورتوں کے لیے تھے جبکہ سیدھے کھڑے پتھر یا منہر مردوں کے لیے تھے۔

تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے اور ٹریول کمپنی چلانے والے سیموئیل ساویان نے کہا کہ ’اس کے باوجود نارتیانگ کا معاملہ قدرے دلچسپ معاملہ ہے، کیونکہ اس بات کے ٹھوس شواہد نہیں ہیں کہ ان مونولتھوں کی اتنی کثیر تعداد ایک جگہ پر کیونکہ جمع ہوئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ممکنہ طور پر، سب سے اونچا پتھر قبیلے کے کسی اہم شخص کے لیے کھڑا کیا گیا تھا اور باقی کو چند نسلوں میں دوسرے اراکین کے لیے شامل کر دیا گیا۔

’یہ جگہ رفتہ رفتہ ایک بازار بن گئی اور پتھر کے سلیبوں کو سامان کی نمائش اور فروخت کے لیے سٹال کے طور پر یا بیٹھنے اور آرام کرنے کے لیے ان کا استعمال کیا جانے لگا۔‘

نوآبادیاتی راج کی آمد کے ساتھ ریاستی بادشاہت اپنی طاقت کھونے لگی تاہم جینتیا معاشرے میں یک سنگی نے ایک اہم کردار ادا کرنا جاری رکھا۔

پتھر

،تصویر کا ذریعہSATARUPA PAUL

1800 کی دہائی کے اوائل میں بنگال میں اپنے قدم جمانے کے بعد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اپنی زمینی آمدنی کے علاقوں کو بڑھانے کے لیے بے چین تھی۔ انھوں نے مشرق میں دور دراز کے علاقوں کی تلاش شروع کی اور پھر سلہٹ میں جینتیا پور سلطنت تک پہنچ گئے۔ اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں انگریزوں نے 1835 میں جینتیا پور کے راجہ کو شمال کی پہاڑیوں میں جلاوطن کر دیا۔ انھوں نے وہیں سے اپنی سیاسی سرگرمی جاری رکھی۔

مؤرخ اور پلیسنگ دی فرنٹیئرز ان نارتھ ایسٹ انڈیا' کے مصنف ڈاکٹر ریجو رے نے کہا کہ 'نارتیانگ کی سیاسی اہمیت اس وقت بڑھ گئی جب جینتیا کے راجہ کو سلہٹ کے میدانی علاقوں میں اپنی نشست سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اس وقت یک سنگی کے ساتھ علاقہ بھی مختلف سرگرمیوں، جیسے راجوں کی تاجپوشی یا عدالتی اور انتظامی امور پر میٹنگ کی جگہ کے لیے اہمیت اختیار کر گیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نارتیانگ یک سنگی کی کچھ سیاسی اہمیت بھی رہی ہوگی۔'

اگرچہ نارتیانگ کے مونولتھ کے گرد بنی لوک داستانیں پرکشش لگتی ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ ان ڈھانچے نے مختلف ادوار میں حقیقی مقاصد کی تکمیل بھی کی ہوگی۔

مسٹر رے نے کہا: 'نارتیانگ یک سنگی کے معاملے میں داستان اور یادداشت کا ایک خاص ملاپ ہے۔ مقامی لوگوں کا اس جگہ کے وجود میں آنے کی کہانی افسانوں یا لوک داستانوں پر مبنی ہے۔ لیکن وہ اسے اس مقصد کے لیے بھی یاد رکھتے ہیں کہ اس نے ایک ہفتہ وار بازار، ایک یادگار، سیاسی اجتماعات کی جگہ کے طور پر ان کے آباؤ اجداد کی خدمت کی تھی۔ زبانی تاریخ اس طرح کام کرتی ہے اور یہ حقیقت و فسانے کو اجتماعی یادداشت میں ضم کر دیتی ہے۔'

آج نارتیانگ کے مونولتھ یا یک سنگی کا کوئی مقصد نہیں سوائے اس کے کہ گزرے ہوئے زمانے کے عظیم آثار کے طور پر کھڑے ہیں۔ تفصیلی آثار قدیمہ کا کام ابھی تک اس جگہ کی صحیح وجہ اور کس طرح کا پتہ لگانے کے لیے کیا جانا باقی ہے۔ اگرچہ لوک داستانوں اور مزید ثابت شدہ تاریخی اکاؤنٹس سائٹ کے بارے میں کچھ بصیرت پیش کرتے ہیں، پتھر کے دیوؤں کا راز برقرار ہے۔

Thursday, November 2, 2023

بالفور اعلامیہ: سادہ کاغذ پر لکھے گئے 67 الفاظ جنھوں نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ بدل ڈالی

 

بالفور اعلامیہ: سادہ کاغذ پر لکھے گئے 67 الفاظ جنھوں نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ بدل ڈالیایک سادہ کاغذ پر لکھے 67 الفاظ نے مشرق وسطی میں ایک ایسے تنازع کا آغاز کیا جو اب تک حل نہیں ہو سکا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع کے دوران، جس میں 1400 اسرائیلی اور ساڑے آٹھ ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، بالفور اعلامیہ کے 106 سال بیت چکے ہیں۔ یہ ایک ایسی دستاویز تھی جس نے اسرائیل کو جنم دیا اور مشرق وسطی کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

دو نومبر 1917 کو پہلی عالمی جنگ کے دوران لکھی جانے والی اس تحریر میں پہلی بار برطانوی حکومت نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک ریاست کے قیام کی حمایت کی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب سلطنت عثمانیہ کو شکست دینے کے بعد فلسطین پر برطانیہ کنٹرول حاصل کر چکا تھا۔

عرب اس دستاویز کو ’برطانوی دغا‘ سمجھتے ہیں کیوں کہ سلطنت عثمانیہ کو شکست دینے میں انھوں نے برطانیہ کا 

اس اعلامیے میں کیا کہا گیا؟

یہ اعلامیہ اس وقت کے برطانوی سیکریٹری خارجہ آرتھر بالفور نے بیرن لیونیل والٹر روتھس چائلڈ کو بھجوایا تھا جو برطانیہ میں یہودی کمیونٹی کے ایک رہنما تھے۔

اس اعلامیہ میں لارڈ روتھس چائلڈ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا:

’برطانوی حکومت کی جانب سے میں آپ کو صیہونی یہودیوں کی حمایت میں یہ بیان بھجوا رہا ہوں جو کابینہ کے سامنے رکھا گیا اور اس کی منظوری دی گئی۔‘

’برطانوی حکومت فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک ریاست کے قیام کو مثبت نظر سے دیکھتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گی۔ تاہم یہ واضح رہے کہ فلسطین کی موجودہ آبادی کے سول اور مذہبی حقوق کیخلاف کوئی اقدام نہیں ہو گا اور نہ ہی کسی اور ملک میں یہودیوں کے حقوق اور سیاسی سٹیٹس متاثر ہو گا۔‘

’میں آپ کا شکرگزار ہوں گا اگر آپ اس اعلامیے کو صیہونی فیڈریشن کے علم میں لائیں۔‘

جیمز بالفور کون تھے؟

اس اعلامیے کا نام اس کے مصنف برطانوی سیکریٹری خارجہ آرتھر جیمز بالفور کے نام پر پڑا جو کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کنزرویٹیو پارٹی کے نمائندہ کی حیثیت سے رکن پارلیمان بنے۔ ان کا تعلق برطانیہ کے متمول گھرانے سے تھا۔

سکاٹش خاندان سے تعلق رکھنے والے آرتھر جیمز 1902 سے 1905 تک برطانیہ کے وزیر اعظم بھی رہے اور انھوں نے ملک کی خارجہ پالیسی میں اہم خدمات سرانجام دیں۔

آرتھر جیمز بالفور کا خیال تھا کہ برطانوی حکومت کو ’صیہونی ایجنڈا‘ کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔ یہ ایک سیاسی تحریک تھی جس نے 19ویں صدی کے اختتام پر یورپ میں زور پکڑ لیا تھا اور فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہی تھی۔ آرتھر جیمز بالفورساتھ دیا تھا۔ بالفور اعلامیہ کے بعد تقریباً ایک لاکھ یہودی فلسطین پہنچے تھے۔آرتھر جیمز بالفور کو اس بات کا سہرا دیا جاتا ہے کہ انھوں نے ہی برطانوی کابینہ کو اعلامیے کی حمایت پر راضی کیا۔ برطانیہ میں یہودی کمیونٹی کے بااثر رہنما لیونیل والٹر روتھس چائلڈ اور چائم ویزمین نے ان کی بھرپور مدد کی۔

چند لوگوں کا خیال ہے کہ آرتھر جیمز بالفور نے یہودیوں کی حمایت سیاسی فوائد کے لیے کی تھی۔

لیونیل والٹر روتھس چائلڈ کون تھے؟

لیونیل روتھس چائلڈ ایک طاقتور بنکاری خاندان کے سربراہ تھے اور یہودی کمیونٹی کے بااثر رہنما بھی تھے۔ یہ امیر اور طاقتور خاندان فلسطین میں یہودیوں کی ریاست کے قیام کے لیے سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔

اسی خاندان کے ایک اور رکن، ایڈمنڈ روتھس چائلڈ نے فلسطین میں بڑی تعداد میں زمین خریدی اور 19ویں صدی کے اختتام تک یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے میں مدد فراہم کی۔ اس زمانے میں یہ خاندان دنیا کے امیر خاندانوں میں سے ایک شمار ہوتا تھا۔

ایڈمنڈ کی جانب سے یہودیوں کی فلاح کے مقاصد کے لیے امداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کو ’بینیفیکٹر‘ (مددگار) کا لقب دیا گیا۔

بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ اعلامیہ لیونیل روتھس چائلڈ کے نام کیوں لکھا گیا جبکہ اس زمانے میں برطانوی یہودی کمیونٹی کے بورڈ آف ڈپٹیز کے صدر سٹوارٹ سیموئل تھے جو ملک میں سرکاری طور پر یہودی کمیونٹی کی نمائندہ تنظیم تھی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں میں بھی دھڑے بندی تھی اور ایک گروہ اس ایجنڈے کی مخالفت کر رہا تھا۔

روتھس چائلڈ کے پاس کوئی سرکاری عہدہ تو نہیں تھا لیکن وہ ’صیہونی ایجنڈا‘ کی حمایت کرنے والوں میں سب سے آگے تھے۔ آرتھر جیمز بالفور سے ان کے تعلقات کی وجہ سے یہ خط ان کے نام ہی لکھا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دستاویز کی تحریر میں بھی روتھس چائلڈ نے حصہ لیا تاہم اس دعوے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

چند سال بعد، 1925 میں، لیونیل روتھس چائلڈ برطانیہ میں یہودی تنظیم کے بورڈ آف ڈپٹیز کے صدر بھی بن گئے۔

بالفور اعلامیہ کا مقصد کیا تھا؟

برطانوی حکومت کو امید تھی کہ اس اعلامیے کے بعد امریکہ اور باقی دنیا میں بسنے والے یہودی پہلی عالمی جنگ میں مکمل طور پر جرمنی کے خلاف اتحادیوں کا ساتھ دیں گے۔

مؤرخین کا ماننا ہے کہ برطانیہ سمیت یہودی کمیونٹی معاشی اثرورسوخ رکھتی تھی اور خصوصاً عالمی سرمایہ کاری میں بااثر ہونے کی وجہ سے برطانیہ کو ان کی مدد درکار تھی۔ چند ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ برطانیہ نے جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدام کیا۔

اس تحریر کا مقصد جو بھی ہو، بالفور اعلامیہ نے 1948 میں اسرائیل کو جنم دیا اور خطے سے لاکھوں فلسطینیوں کو بے دخل کیا۔

شجر الدر نے ایک صلیبی فوج کو مشکل میں ڈال دیا: ایک کنیز کی تخت نشینی اور قتل کی کہانی

 

شجر الدر نے ایک صلیبی فوج کو مشکل میں ڈال دیا: ایک کنیز کی تخت نشینی اور قتل کی کہانی

سنہ 1249 اور نومبر کا مہینہ۔ دریائے نیل کے کنارے مصر کے شہر منصورہ کے میدان میں دو بڑی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔

ایک طرف یورپ سے فرانس کے طاقتور بادشاہ لوئی نہم کی قیادت میں آنے والی ساتویں صلیبی فوج ہے اور دوسری طرف مصر کے سلطان اور ایوبی خاندان کے آخری فرمانروا سلطان الصالح کے سپاہی۔

فرانس کے بادشاہ لوئی نہم، جنھیں اپنے مذہبی طرز عمل کی وجہ سے تاریخ میں سینٹ لوئی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اپنے امرا اور مشیروں کے ساتھ جنگ کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں۔

اس کے برعکس مصر کے سلطان کے خیمے میں خاموشی چھائی ہے۔ کئی مؤرخ لکھتے ہیں کہ طاقتور ایوبی خاندان کے ساتھ یہ جنگ مصر اور یروشلم کے مستقبل کے لیے فیصلہ کُن تھی۔ اس سب کی ذمہ داری بہت حد تک ایک سابقہ لونڈی اور اب سلطان کی بیوی شجرالدر کے ہاتھ میں تھی۔ شجرالدر کے معنی ’موتیوں کا درخت‘ ہیں۔جیت کی صورت میں فرانس کے بادشاہ نہم کے لیے قاہرہ فتح کرنا بھی مشکل نہ ہوتا اور اس کے بعد صلیبی فوج کے لیے یروشلم کی منزل آسان ہو جاتی۔

بادشاہ لوئی نہم مصر فتح کر کے یروشلم واپس حاصل کرنے کی قسم پوری کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے دسمبر 1244 میں شدید بیماری کی حالت میں صلیب پر یروشلم حاصل کرنے کا عہد کیا تھا۔فرانس کے بادشاہ لوئی جنگجو، وسائل اور جنگی ساز و سامان حاصل کرنے کی ایک بھرپور مہم کے بعد تقریباً 200 بحری جہازوں پر مذہبی جذبے سے سرشار ہزاروں سپاہیوں کے ساتھ مصر پر حملے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ انھیں معلوم تھا کہ یروشلم پر حملے کے لیے مصر پر کنٹرول بہت ضروری ہے اور جس وقت وہ روانہ ہوئے، مصر کے سلطان کسی مہم پر تھے اور حملے کی اطلاع ملنے پر انھیں تیزی سے واپس لوٹنا پڑا۔

4 جون سنہ 1249 کو جب صلیبی فوج بحیرہ روم کے ساحلی شہر دمیاط پر اتری تو تمام حالات سازگار لگ رہے تھے اور دمیاط میں ابتدائی کامیابی نے ان کے حوصلے اور بھی بلند کر دیے۔ صلیبی فوج کامیابی کے ساتھ دریائے نیل کے ساتھ ساتھ پیشرفت کرتی منصورہ تک پہنچ گئی۔

صلیبیوں کو یہ بھی معلوم تھا کہ مصر کے سلطان الصالح شدید بیمار ہیں اور ان کے واحد بیٹے اور وارث طران شاہ کی ایک تو شہرت اچھی نہیں دوسرا وہ مصر سے بہت دور تھے جبکہ سلطان کی موت کی صورت میں مملوکوں (غلاموں) پر مشتمل فوج کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور مصر میں طاقت کے مختلف مراکز میں سیاسی کشمکش بھی شروع ہو سکتی ہے جس کا وہ فائدہ اٹھا سکیں گے۔انھیں نہیں معلوم تھا کہ منصورہ کے میدان جنگ میں 22 نومبر 1249 کو سلطان الصالح کا 44 سال کی عمر میں اپنے خیمے میں انتقال ہو چکا تھا۔ ان کی وفات کی خبر خود مسلمان فوج کے علم میں بھی نہیں تھی۔ ان کے خیمے میں چھائی خاموشی نے بھی کسی کی توجہ حاصل نہیں کی کیونکہ بیماری کے دوران وہ ویسے ہی کسی کے سامنے نہیں آ رہے تھے اور ان کی فوج نے ان کو کافی دنوں سے نہیں دیکھا تھا۔

مؤرخ لکھتے ہیں کہ ماضی کی طرح اس بار بھی مشکل وقت میں ان کی اہلیہ اور سابقہ لونڈی شجرالدر، جو انھیں برسوں پہلے بغداد سے عباسی خلیفہ سے تحفے میں ملی تھیں، اُن کے ساتھ تھیں۔

شجرالدر نے فوج کے کمانڈر فخرالدین اور کیولری کمانڈر کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا کہ جب تک ولی عہد طران شاہ مشرقی اناطولیہ سے واپس پہنچ کر تخت نہیں سنبھال لیتے سلطان کی موت کو تین مہینے تک خفیہ رکھا جائے گا۔

مؤرخ مارگیٹ ویڈ لابارج اپنی کتاب ’لوئی نہم: موسٹ کرسچن کِنگ آف فرانس‘ میں لکھتی ہیں کہ ایوبی سلطنت کے تخت کا وارث اور سلطان کا بیٹا بہت دور تھا اور مسلمان کیمپ میں کنفیوژن سے مسیحیوں کو اپنے مقاصد میں کامیابی مل سکتی تھی۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’سلطان کی اہلیہ جو ثابت قدم اور دور اندیش تھیں انھوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ انھوں نے چند اہم امرا کی مدد سے یہ خبر مسلمان فوجیوں سے چھپائی رکھی اور سپہ سالار فخر الدین کے ہاتھ مضبوط کر کے انھیں اضافی ذمہ داریاں سونپ دیں۔‘

فرانس کے بادشاہ اور مصر کے سلطان کا ایک دوسرے کو چیلنج

مؤرخ فیئر چائلڈ رگلز شجر الدر کی زندگی پر لکھی اپنی کتاب ’ٹری آف پرلز (موتیوں کا درخت: 13ویں صدی میں مصر کی غلام ملکہ شجر الدر کی غیرمعمولی تعمیرات)‘ میں بتاتی ہیں کہ مصر کے ساحل پر اُتر کر بادشاہ لوئی نے سلطان الصالح کو خط لکھا کہ ’میرے سپاہیوں سے پہاڑ اور میدان بھر گئے ہیں، ان کی تعداد اتنی ہے جیسے ساحل پر بکھرے کنکر اور وہ تم پر تلوار بن کر ٹوٹ پڑیں گے۔‘

سلطان نے جواب میں لکھا کہ ’آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ہماری فوج کا کوئی حصہ تباہ ہوا ہو اور ہم نے اسے بحال نہ کیا ہو اور آج تک کوئی ظالم ایسا نہیں آیا جس نے سر اٹھایا ہو اور ہم نے اسے کچلا نہ ہو۔۔۔‘

یہ جواب اپنی جگہ لیکن مؤرخ بتاتے ہیں کہ اس وقت تک السر کی وجہ سلطان الصالح اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ انھیں پالکی میں سوار کروا کر میدان جنگ تک لایا گیا۔تاہم سلطان الصالح کی موت اور ولی عہد طران شاہ کی آمد کے بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ صلیبی فوج کو نہ صرف بھاری جانی نقصان کے ساتھ پسپائی اختیار کرنا پڑی بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ پانچ اپریل کو بادشاہ لوئی اپنے بھائی اور بہت بڑی تعداد میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ مسلمان فوج کے قیدی بن گئے۔

مؤرخ لکھتے ہیں کہ فرانس کے بادشاہ کے قیدی بننے میں ان کی اپنی بہادری کا بہت بڑا ہاتھ تھا کیونکہ انھوں نے اپنی پسپا ہوتی فوج میں سب سے آخری اور پیدل سپاہیوں کے ساتھ چلنا پسند کیا، نہ کہ گھوڑے پر سب سے آگے جیسا کہ ان کے امرا نے ان سے التجا کی تھی۔

فرانس کے بادشاہ کی رہائی بھاری تاوان کے بعد ممکن ہوئی۔ یہ 13ویں صدی تھی جب ہر چیز کی رفتار آج کے مقابلے میں بہت سست تھی۔ تاوان کی ادائیگی اور ان کی واپسی کا مرحلہ ابھی طے نہیں پایا تھا کہ طران شاہ مملوکوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے اور صلیبیوں کے ساتھ فرانس کے بادشاہ کی آزادی اور تاوان کی ادائیگی یہ مرحلہ بھی شجرالدر کی نگرانی میں انجام کو پہنچا۔ مؤرخ اس چیز کو ان کی مختصر زندگی کی بڑی کامیابیوں میں گنتے ہیں۔

شجرالدر کا سلطان کی موت کو خفیہ رکھنے کا منصوبہ

فیئر چائلڈ نے اس زمانے کے مؤرخین سبط ابن الجوزی اور ابن واصل (جو اس وقت حیات تھے) کے حوالے سے سلطان کی موت کے بعد کے واقعات کی تفصیل بیان کی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ وہ جنگ کے دوران اور سلطان کی موت کے وقت منصورہ میں ان کے ساتھ تھے۔

مؤرخ ابن واصل نے اس تمام صورتحال کو یوں بیان کیا ’اتنے اہم موقع پر سلطان کی موت کے بعد ان کی بیوی شجر الدر نے فیصلہ کیا کہ حالات کو قابو میں رکھنے اور فوج کو متحد رکھنے کے لیے امیر فخرالدین سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ انھوں نے کیولری کمانڈر جمال الدین محسن کو اعتماد میں لے کر امیر فخرالدین کو طلب کیا۔ ان تینوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ یہ خبر سب سے خفیہ رکھی جائے گی۔۔۔‘

صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ تھی کہ سلطان کے دو بیٹوں کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کا تیسرا بیٹا اور واحد وارث طران شاہ اس وقت دو ہزار کلومیٹر دور مشرقی اناطولیہ میں تھا۔

ابن واصل کے مطابق شجر الدر، فخرالدین اور جمال الدین محسن نے طے کیا کہ شہزادے طران شاہ کی واپسی سے پہلے پوری فوج اور تمام امرا سے فخرالدین سمیت سلطان الصالح اور طران شاہ کی وفاداری کا حلف لیا جائے گا۔سبط ابن الجوزی بتاتے ہیں کہ ’ام خلیل (شجر الدر) کے ہاتھ میں تمام معاملات تھے، انھوں نے خیمے میں کچھ تبدیلی نہیں ہونے دی۔ روز کی طرح کھانا وہاں لایا جاتا تھا، امرا حاضری کے لیے آتے رہے بس فرق یہ تھا کہ شجر الدر ان سے کہہ دیتیں کہ سلطان بیمار ہیں اور کوئی انھیں نہیں دیکھ سکتا۔

’سلطان کے زندہ ہونے کا تاثر قائم رکھنے کے لیے ڈاکٹر بھی صبح شام خیمے کا چکر لگاتے رہے۔ سلطان کے ذاتی معالج سے رات کے وقت ان کی میت کو نہلانے اور دعا کرنے کے لیے کہا گیا۔۔۔‘ کچھ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ سلطان کی لاش کو خیمے سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

’شجر الدر کی طرف سے سلطان کے جعلی دستخطوں کے ساتھ خیمے سے احکامات بھی جاری ہوتے رہے۔‘

جوزی لکھتے ہیں سلطان الصالح کئی بار لمبے عرصے کے لیے جنگوں پر جاتے ہوئے معاملات شجرالدر کو سونپ کر جاتے تھے اور اسی دوران انھوں نے سلطان کے دستخط نقل کرنے میں مہارت حاصل کر لی تھی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ وارث کی تخت نشینی تک کسی حکمران کی موت کو خفیہ رکھنا اس زمانے میں غیر معمولی بات نہیں تھی جب خبر ایک سے دوسری جگہ پہنچنے میں بہت وقت لگتا تھا۔

’مصر کے پاس سلطان تھا نہ سپہ سالار‘

مصر میں جلد ہی صورتحال کے بارے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ مؤرخ ابن واصل لکھتے ہیں کہ انھیں سلطان کی موت کے تیسرے روز حقیقت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ لیکن ایوبی دربار میں کام معمول کے مطابق چلتا رہا تاکہ صلیبیوں کو مصر کی کمزوری کا پتا نہ چلے اور جمعے کے خطبے میں بھی سلطان الصالح کا نام لیا جاتا رہا۔لیکن افواہیں پھیلنا شروع ہو چکی تھیں اور اس کے ساتھ محلاتی سازشیں بھی۔ قاہرہ کے گورنر نے شہزادے طران شاہ کو جلد واپس آنے کا پیغام پہنچایا کہ ’آپ نے دیر کی تو کھیل ختم ہو جائے گا۔‘

دریں اثنا صلیبی فوج مزید 20 کلومیٹر پیش قدمی کرتے ہوئے قاہرہ کے قریب آ چکی تھی۔ سلطان الصالح کے جعلی دستختوں کےساتھ منبر سے لوگوں سے جہاد کی اپیل کی گئی لیکن افراتفری پھیل چکی تھی۔

اسی دوران مسیحی فوج نے حملہ کر دیا۔ جنگ کے دوران نو فروری 1250 کو امیر فخرالدین کا انتقال ہو گیا اور حالانکہ صلیبی ناکام رہے اور مصر جنگ جیت گیا لیکن اب ’مصر کے پاس سلطان تھا اور نہ سپہ سالار۔‘

طران شاہ کی آمد اور قتل

24 فروری کو طران شاہ منصورہ پہنچے اور فوج کی کمان سنبھالی۔ اس وقت ان کے والد کے انتقال کو تین ماہ ہو چکے تھے۔

فیئر چائلڈ لکھتی ہیں کہ طران شاہ کا رویہ اپنے والد کے رفقا سے اچھا نہیں تھا اور بہت جلد ان کو ہٹانے کی باتیں شروع ہو گئی تھیں۔ مصر سے غیر ملکی فوج کا خطرہ تو ٹل چکا تھا لیکن اندرونی طور پر سلطنت خلفشار کا شکار تھی۔ سابق سلطان کے رفقا، اہم امرا اور مملوک کمانڈر جان کا خطرہ محسوس کرنے لگے تھے۔

شجر الدر کا مستقبل بھی غیر واضح تھا۔ لیکن انتہا اس وقت ہو گئی جب طران شاہ نے انتہائی ’توہین آمیز پیغام‘ بھیجتے ہوئے ان سے سرکاری خزانہ اور اپنے زیورات ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

حالات تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔ شجرالدر نے سلطان الصالح کے وفادار مملوکوں سے مدد طلب کر لی۔ فیئر چائلڈ لکھتی ہیں کہ ان مملوک قائدین نے طران شاہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ سلطان الصالح کے مملوک شجرالدر کا شاید اس لیے بھی ساتھ دے رہے تھے کہ وہ بھی ان کی طرح ترک نسل سے تھیں اور ماضی میں غلام رہ چکی تھیں۔

فیئر چائلڈ لکھتی ہیں کہ اس دور کے مؤرخین طران شاہ کے قتل کی تاریخ پر متفق نہیں لیکن یہ واقعہ سنہ 1250 میں اپریل کے آخر یا مئی کے شروع میں پیش آیا تھا۔ شجر الدر اس قتل کی سازش میں شامل تھیں یا نہیں؟ اس بارے میں اس زمانے کے مبصرین خاموش ہیں لیکن ایک نامعلوم مصنف کی کچھ عرصے بعد لکھی گئی کتاب ’حوادث‘ کے مطابق اس سازش میں ان کی رضامندی ضرور تھی۔

اب سوال یہ تھا کہ مصر کا نیا سلطان کون ہو گا جو سلطنت کو استحکام بخش سکتا ہے؟

سلطان شجر الدر: وہ لمحہ جس کا قرون وسطیٰ میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا

فیئرچائلڈ لکھتی ہیں یہ ’ایک غیر معمولی لمحہ تھا جب تخت پر کوئی ایوبی امیدوار نہیں تھا، سلطنت کا کنٹرول مملوکوں کے پاس تھا، بغداد کے خلیفہ غیر موثر تھے اور کوئی ایسا انسان جس کا سلطان الصالح کے ساتھ براہ راست تعلق تھا، وہ صرف ان کے مرحوم بیٹے خلیل کی ماں ہونے کے ناطے ان کی سابقہ لونڈی اور بیوہ شجر الدر تھیں۔‘

’اور اس طرح وہ ہو گیا جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔‘

ابن واصل لکھتے ہیں کہ مصر کے امیر اور الصالح کے مملوک، سلطان کے خیمے میں اکٹھے ہوئے اور ’مل کر فیصلہ کیا کہ شجر الدر کو سلطان کا عہدہ سنبھال کر حکومت کرنی چاہیے اور سلطانی حکم اب ان کے نام اور دستخط سے جاری ہوں گے۔‘

شجر الدر طران شاہ کی موت کے دو دن بعد چار مئی کو ایوبی سلطنت کی سلطان نامزد ہوئی تھیں۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور حل طلب مسئلہ فوج کے نئے سپہ سالار کی نامزدگی کا تھا۔ اعلیٰ عہدیداران کی طرف سے اس غیر یقینی ماحول میں اس ذمہ داری لینے سے انکار کے بعد ایک درمیانے درجے کے مملوک عہدیدار عزالدین ایبک کو یہ عہدہ دے دیا گیا۔ ’اس کے بعد ریاست کے تمام معاملات ان کے نام سے چلنے لگے اور دستاویزات پر اُم خلیل کے نام کے دستخط ہوتے تھے۔‘

ابن واصل بتاتے ہیں کہ ’ایک بار پھر مصر کے امرا اور سلطان الصالح کے مملوک شاہی خیمے میں اکٹھے ہوئے اور شجرالدر سے بحیثیت سلطان اور ایبک سے بحیثیت فوج کے کمانڈر وفاداری کا حلف لیا۔‘قاہرہ اور تمام مصر میں جمعے کے خطبے میں بھی ان کا نام پڑھا جانے لگا۔ 14ویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں لکھی گئی دستاویز ’حوادث‘ کے مطابق شجر الدر کے سلطان بننے کے بعد جمعہ کو دعا پڑھی گئی کہ ’اے خدا! سلطان، الملک الصالح کی (سابق) غلام، ملکہ المسلمین، عصمت الدنیا والدین (شجر الدر کا اسلامی نام)، اُم خلیل، المستعصم کی غلام، الملک الصالح کی بیوی، مومنین کے سپہ سالار کی حلیف کی حفاظت کرنا۔‘

شجرالدر: تحفے میں دیے جانے والے مال سے حکمرانی تک

مؤرخ فیئر چائلڈ شجر الدر کی زندگی پر اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ان کی نظر میں اہم سوال یہ ہے کہ انھوں نے سلطان کی محبت اور اعتماد کیسے حاصل کیا کیونکہ سلطان کی شجر الدر کے لیے بے پناہ محبت کے بہت سے شواہد ملتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی کہ سلطان الصالح کی موت کے بعد ان کے اہم مشیر ملکہ کا ساتھ دینے پر کیوں مجبور ہوئے اور انھوں نے کس بنیاد پر ایک ایسی عورت کو حکمرانی کے قابل سمجھا جس کا پس منظر انتہائی غیر معمولی تھا۔

’انھوں (شجر الدر) نے اپنے آپ کو سلطان کا عہدہ اور فرائض سنبھالنے کے اہل سمجھنے کی جرات بھی کیسے کی جبکہ مصر اور شام میں ماضی میں کسی عورت نے ایسا نہیں کیا تھا۔‘

وہ لکھتی ہیں کہ شجر ابتدائی طور پر ایک پُرعزم، خوبصورت، نوجوان خاتون کے روپ میں تاریخ کے پردے پر نمودار ہوتی ہیں جن کی تمام تر وفاداری اپنے مالک اور خاوند کے ساتھ ہوتی ہے، پھر جب وہ یورپ سے فرانس کے بادشاہ کی قیادت میں یروشلم پر قبضے کے لیے آنے والی ایک طاقتور صلیبی فوج کو ناکام واپس لوٹنے اور ایوبی خاندان کی حکمرانی قائم رکھنے میں کردار ادا کرتی ہیں تو ایک انتہائی ذہین سیاستدان کی شکل میں نظر آتی ہیں اور پھر آخر میں جب وہ اپنے دوسرے شوہر پر شک کرتے ہوئے ان کے قتل کا سوچتی ہیں تو ایک سکیمر کا روپ سامنے آتا ہے۔

فئیرچائلڈ لکھتی ہیں کہ شجر الدر صرف ایک غیر معمولی عورت نہیں تھیں بلکہ وہ ایک ہنگامہ خیز اور غیر متوقع تاریخی لمحے کی پیداوار تھیں۔

فیئرچائلڈ بتاتی ہیں شجر الدر سنہ 1236-38 میں شہزادہ الصالح کی زندگی میں آئیں۔ وہ غالباً بغداد کے مستقبل کے عباسی خلیفہ المستعصم کی طرف سے شہزادے الصالح کے لیے تحفے کے طور پر بھیجی گئی تھیں۔ تاہم 13 اور 14 ویں صدی کی تحریروں میں اس کا ذکر نہیں ملتا کیونکہ اس وقت تک ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔

وہ لکھتی ہیں کہ شجرالدر کا پہلی بار ذکر جون سنہ 1240 میں ملتا ہے جب انھوں نے شہزادہ الصالح کے بیٹے خلیل کو جنم دیا۔ فیئر چائلڈ لکھتی ہیں کہ اس زمانے میں کوئی ریکارڈ کا حصہ اسی صورت میں بنتا تھا جب وہ اقتدار کی دوڑ میں اہمیت اختیار کرتا۔

شجر الدر کے تو خاندان کے بارے میں بھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا، اس لیے فیئر چائلڈ لکھتی ہیں کہ ان کی زندگی کی کہانی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ ’وہ تاریخ میں پہلی بار ایوبی سلطنت کی سربراہی کی امیدوار کے طور پر نہیں بلکہ مردوں کے درمیان تبادلے کے ایک مال کے طور پر نظر آتی ہیں۔‘

مصر میں مملوکوں کا بڑھتا اثر و رسوخ

جس وقت شجر الدر منظر عام پر آئیں ایوبی خاندان میں اقتدار کے جھگڑوں کو شروع ہوئے نصف صدی بیت چکی تھی، مصر اور شام میں صلیبی کارروائیاں بڑھ رہی تھیں اور مصر میں اور خاص طور ہر اس کی فوج میں ترک غلاموں یا مملوکوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔

اس دور کے مؤرخین کہتے ہیں کہ مصر میں عسکری ضروریات کے لیے غلام بنا کر لائے جانے والے لڑکوں کی بہت مانگ تھی لیکن لونڈیوں کی مانگ غلام لڑکوں سے بھی زیادہ تھی کیونکہ آزادی حاصل کرنے والے مرد غلام یا مملوک اپنے لیے اپنی ہی ہم نسل کی ترک بیویوں یا لونڈیوں کو ترجیح دیتے تھے۔ اس کے علاوہ اس زمانے میں آزاد عورتوں کی خدمت کے لیے صرف خواجہ سرا یا خادمائیں ہی ہو سکتی تھیں۔

فیئر چائلڈ لکھتی ہیں کہ غلامی کا نظام دنیا میں کہیں بھی کبھی بھی منصفانہ نہیں تھا لیکن مغرب میں غلامی کے نظام کے برعکس جہاں یہ زرعی مزدوری، کیپٹلزم اور نسلی بالا دستی کے تصورات سے جڑا تھا، اسلام میں معاشرہ نسلی یا لسانی بنیادوں پر تقسیم نہیں تھا بلکہ غلاموں کو ترقی کرنے اور سماج کا حصہ بننے کے بہت سے مواقع ملتے تھے۔مؤرخ نذر السید نے اپنی کتاب "قاہرہ: ایک شہر کی تواریخ‘ میں لکھا ہے کہ مملوک کا مطلب تھا وہ جو کسی کی ملکیت ہو۔ یہ لوگ گھڑسواری اور جنگی صلاحیتوں کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ مملوک مصر کے ایوبی حکمرانوں کے محافظ کے طور پر تعینات ہوتے تھے۔

’ان کے عسکری کردار کی وجہ سے انھیں کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اتنے طاقتور ہو گئے کہ ان کی حمایت کے بغیر کوئی تخت پر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔‘

دیواگیری کی مشہور ’اندھیری سرنگ‘ اور اس کے افسانے

 دہلی ک فتحکیا۔ کہا جاتا ہے کہ دیواگیری کو فتح کرنے کے بعد سلطان علاؤالدین خلجی نے سونا، ہیرے، موتیوں سمیت بہت سی قیمتی  چیزیں لوٹ لی تھیں۔ے سلطان علاء الدین خلجی نے اپنے دور حکومت میں مہاراشٹرا پر حملہ کیا اور دیواگیری اور اس کے اطراف کو

تاریخ میں علاء الدین خلجی کی بہت سی کہانیاں اور داستانیں موجود ہیں، لیکن ان سے جڑا ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا خلجی کی دیواگیری میں اتنی لوٹ کی کہانی سچ ہے یا فسانہ؟


ایک غیر معروف قلعہ جس نے قرون وسطیٰ سے مہاراشٹر کے بدلتے ہوئے چہرے کو دیکھا ہے وہ دیواگیری یا دولت آباد کا قلعہ ہے۔ اس قلعے پر کئی خاندانوں نے حکومت کی اور محمد بن تغلق نے دیواگیری کو اپنا دارالحکومت تک بنایا۔

اس قلعے پر یادیو، خلجی، تغلق، نظام شاہی، مغل، مرہٹہ اور آصف جاہی جیسی سلطنتوں کے جھنڈے مختلف اوقات میں لہرائے۔دیواگیری قلعے کے ارد گرد تین خندقیں ہیں۔ سب کے پاس باہر امبر خندق ہے جسے نظام شاہی کے وزیر ملک امبر نے بنایا تھا اور دولت آباد شہر اس قلعہ کے اندر واقع ہے۔

200 میٹر اونچا یہ قلعہ اپنے آس پاس کی وادی اور قلعوں کی وجہ سے تقریباً ناقابل تسخیر نظر آتا ہے۔

تاہم اس قلعے کی ایک وجہ شہرت علاء الدین خلجی کا حملہ بھی ہے۔ اس حملے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ علاؤ الدین خلجی یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ وہ اپنے چچا جلال الدین خلجی کا تختہ الٹ دیں گے لیکن اس مہم کے لیے ان کو پیسہ درکار تھا۔ اور اسی لیے انھوں نے دکن میں موجود دیواگیری کو چُنا جس کی دولت کا چرچہ ان تک پہنچ چکا تھا۔مؤرخ محمد قاسم کی کتاب ’تاریخ فرشتہ‘ علاؤ الدین خلجی اور رام چندر رائے کے درمیان جنگ اور اس کے بعد دیواگیری کی لوٹ مار کی تفصیلات بیان کرتی ہے۔

یادو خاندان کے بادشاہ رام چندر رائے سنہ 1270 میں تخت پر بیٹھے تھے۔ سنہ 1296 میں علاء الدین خلجی نے اچانک حملہ کیا تو رام چندر رائے کی فوج ان کے بیٹے کی قیادت میں ایک مہم پر موجود تھی۔

رام چندر رائے نے دیواگیری کے بظاہر ناقابل تسخیر قلعے میں پناہ لی لیکن اچانک حملے کے باعث اندر خوراک اور سامان کی مقدار ذخیرہ نہیں کی جا سکی تھی۔ اس زمانے میں قلعے کے گرد وہ خندقیں موجود نہیں تھیں جو اب دکھائی دیتی ہیں۔ ادھر خلجی کی فوج نے یہ افواہ بھی پھیلا دی کہ 20،000 مزید فوجی شمال سے آ رہے ہیںرام چندر رائے کے پاس اب کوئی چارہ نہیں تھا چنانچہ اس نے خلجی سے امن معاہدہ کیا اور چھ من سونا، سات من موتی، ہیرے، یاقوت، زمرد اور قیمتی پتھر، ایک ہزار من چاندی اور چار ہزار من ریشم کا کپڑا خراج کے طور پر دے دیا۔

اس ساز و سامان کا تصور تو کیا جا سکتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ساری تفصیل صرف فرشتہ کی کتاب میں ہی موجود ہے؟

اس زمانے کے نامور مؤرخ امیر خسرو نے خلجی کے دور میں بہت کچھ لکھا۔ ان کے بعد عبدالمالک عصامی نے بھی دیواگیری پر حملے کے بارے میں تفصیل سے لکھا۔ لیکن ان دونوں کی تحریروں میں مذکورہ بالا خراج کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لیے بہت سے مؤرخین اس تاریخ پر سوال اٹھاتے ہیں۔

تاریخ فرشتہ میں بیان کردہ تفصیلات تو 17ویں صدی میں لکھی گئیں تھیں۔ لہٰذا 13ویں صدی کے واقعات کے بارے میں اس کا کتنا حصہ تاریخی ہے اور کتنا افسانہ ہے، یہ اہم سوال ہے۔

مؤرخ ڈاکٹر برہمانند دیش پانڈے نے اپنی کتاب ’دیواگیریچے یادو‘ میں خلجی کو ملنے والی دولت کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ خلجی اس خطہ میں ضرور آئے ہوں گے لیکن دیواگیری تک نہیں پہنچ سکے۔دیواگیری کے بارے میں پڑھتے ہوئے ایک اندھیری سرنگ کا خاص ذکر ملتا ہے۔

مرکزی قلعہ کے دروازے کی طرف جانے والے راستے میں ناہموار اونچائی کے سیڑھیاں ہیں، لیکن ان کی اونچائی اور شکل یکساں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یہاں زبردستی داخل ہو گا وہ ضرور گرے گا۔ اس اندھیری راہ گزر میں محافظوں کے لیے کئی چوکیاں تھیں۔

اندھیری سرنگ کے بیچ میں پتھر کی دیوار میں ایک خلا تھا، جس سے ہوا آتی تھی۔ دفاع کا ایک منصوبہ یہ تھا کہ جلتے ہوئے کوئلے کو لوہے کے پنجرے میں رکھا جائے اور اس کا دھواں اندھیرے میں پھیل جائے۔ اس دھوئیں سے نکلنا تقریباً ناممکن تھا۔ یونانی مؤرخ پولیبیئس نے لکھا ہے کہ اسی طرح کا منصوبہ 189 قبل مسیح میں رومی فوج نے امبریشیا پر قبضے کے وقت تیار کیا تھا۔سڈنی ٹوئے نے ہندوستانی قلعوں کے بارے میں اپنی کتاب 'Strongholds of India' میں کہا ہے کہ اس سرنگ سے گزرنے کے تین راستے تھے۔ اگر کوئی شخص ایک راستے سے باہر نکلتا تو اچانک روشنی کی وجہ سے گہرے گڑھے میں گر جاتا۔ دوسرا راستہ آگے بڑی کھائی کی طرف جاتا تھا، جب کہ تیسرا راستہ قلعے کی طرف جاتا تھا۔دیواگیری دراصل ایک پہاڑی قلعہ ہے اور قلعے کے دفاع کا ایک اہم حصہ اس کے اردگرد گہری کھائیاں یا خندقیں ہیں۔ اگر ہم اس کی تاریخ تلاش کرنے جائیں تو ہم نظام شاہی دور کے وزیر ملک امبر تک پہنچیں گے۔

اس کی تفصیلات پی کے گھنیکر نے اپنی کتاب ’یادوانچا دیواگیری‘ میں دی ہیں۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ کبھی ان کھائیوں پر ایک پل بنا ہوا تھا۔ اس خندق یا گڑھے کے استعمال کے بارے میں انھوں نے لکھا کہ ان میں پانی اس وقت چھوڑا جاتا تھا جب دشمن کے حملے کا خطرہ ہوتا تھا۔ پانی کی سطح بلند ہو جاتی اور پل ڈوب جاتا تو دشمن کے لیے اس کھائی کو عبور کرنا مشکل ہو جاتا۔

یاد رہے کہ ملک امبر ایک افریقی غلام تھا لیکن ہندوستان آنے کے بعد اپنی ذہانت اور مہارت کی وجہ سے نظام شاہی دور میں براہ راست وزیر کے عہدے پر فائز ہوا۔

نظام شاہی کے بانی ملک احمد نے 1490 کے آس پاس دیواگیری پر قبضہ کر لیا۔ 1636 میں اورنگ زیب نے نظام شاہی کو شکست دی اور دکن میں مغلیہ سلطنت کو مضبوط کیا۔

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ؛ میچ سے قبل شائقین کرکٹ کیلئے بری خبر

 نگلورو کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں 4 نومبر ہفتے کے روز مدمقابل آئیں گی، تاہم اس میچ سے قبل ہی محکمہ موسمیات نے شائقین کرکٹ کو خبردار کردیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ بنگلورو میں ہفتے کے روز دوپہر کے اوقات 


میں بارش کے 70 سے 80 فیصد امکانات ہیں ۔گرین شرٹس کیلئے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ سیمی فائنل کھیلنے کی امیدوں کو روشن رکھنے کیلئے انہیں اپنے اگلے دونوں میچز میں لازمی فتح درکار ہے۔               پاکستان کیلئے اس میچ میں فتح کا مارجن بہت اہمیت رکھتا ہے، قومی ٹیم 84 رنز کی جیت یا 35 اوورز کے اندر ہدف حاصل کرنا ہوگا جس کے باعث انکا نیٹ ریٹ کیویز سے بہتر ہوسکتا ہے اور ٹاپ فور میں پہنچنے کے جانسز بن سکتے ہیں۔دوسری جانب اگر میچ بارش کی وجہ سے واش آؤٹ ہوتا ہے تو دونوں ٹیموں کو ایک پوائنٹ دے دیا جائے گا تاہم اسکا اثر نیٹ رن ریٹ پر نہیں پڑے گا۔

Wednesday, November 1, 2023

راشد لطیف نے جاوید میانداد کو تھپڑ مار دیا

 صحافی کی جانب سے عائد کیے گئے الزام پر راشد لطیف نے سوشل میڈیا پر اپنا تفصیلی بیان اور ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس ’پی جے میر‘ کو بھیجنے کا اعلان کیا۔    

سوشل میڈیا پر وضاحتی بیان میں راشد لطیف کا کہنا تھا کہ ’جاوید بھائی نہ صرف کرکٹ کے لیجنڈ ہیں بلکہ وہ پاکستان کے قومی ہیرو اور  قابل احترام  ہیں۔ مجھے ان کی کپتانی میں پاکستان کے لیے ڈیبیو کرنے کا اعزازحاصل ہوا‘۔انہوں نے کہا کہ جاوید میدانداد کرکٹ کا ادارہ ہیں اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں ان کو والد جتنی عزت دیتا ہوںواضح رہے کہ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی پی جے میر نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈریسنگ روم میں جھگڑے کے بعد راشد لطیف نے جاوید میانداد کو تھپڑ مار دیا تھا، جب میں وہاں پہنچا تو جاوید بھائی باہر بیٹھے ہوئے تھے جس پر مجھے بہت افسوس ہوا تھا۔

Cheapest countries to live in the world:

Cheapest countries to live in the world: 1. Pakistan 2. Egypt 3. India 4. Nigeria 5. Libya 6. Syria 7. Nepal 8. Bangladesh 9...