Tuesday, November 14, 2023

 حج 2024 Hajj




اطلاعات کے مطابق حج پالیسی 2024 نومبر کے تیسرے ہفتے میں آنے کا امکان ہے۔ اب ان عازمین کیلٸے جو سرکاری اسکیم 2024 کے تحت حج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں حج کیلٸے درکار کاغذات کی تیاری کیلٸے بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ اگر ابھی بھی کاغذات مکمل نہیں ہیں تو درج ذیل ہدایات کے مطابق جلد سے جلد مکمل کرالٸے جاٸیں تاکہ بروقت کسی پریشانی سے بچ سکیں۔


حج 2024 کے لئے مطلوبہ کاغذات:    


 مشین ریڈایبل پاسپورٹ جس کی کم سے کم میعاد (ایکسپاٸری) 16 دسمبر 2024 ہونی چاہٸے۔    

--  نادرا سے جاری شدہ کار آمد (valid) اصل شناختی کارڈ    

-- نیلے بیک گراٶنڈ کی x4 cm ساٸز کی چار عدد تصاویر۔        

۔ بلڈ گروپ معلوم ہونا چاہٸے۔      

۔ یاد رہے ایک مرد کے ساتھ محرم کی حیثیت سے چار خواتین درخواست جمع کرا سکتی ہیں۔      

-- وارث یا ایمرجنسی رابطہ والے فرد کے شناختی کارڈ کی کاپی      

-- نادرا سے جاری کردہ کرونا ویکسین سرٹیفکیٹ      

کرونا ویکسین:     

حج 2023 کے لئے سعودی وزارت حج کی منظور شدہ کورونا ویکسین کی فہرست نیچے درج ہے۔ عازمین کے لئے نیچے دی گئی فہرست میں سے کسی بھی ویکسین کا مکمل کورس اور نادرا سے جاری شدہ سرٹیفکیٹ اس سال حج کے لئے بھی لازمی ہوگا۔ 

سعودی وزارت کی منظور شدہ ویکسین:

  فائزر (2 ڈوز)      

ایسٹرازینیکا (2 ڈوز)   

 موڈرونا (2 ڈوز)   

 جونسن اینڈ جونسن (سنگل ڈوز)   

 سائنو فارم (2 ڈوز)   

 ساٸنو ویک (2 ڈوز)   

  کوویکسن (2 ڈوز)   

 سپیٹنک (2 ڈوز)   

 کویکس (2 ڈوز)   

 نوویکسوویڈ (2 ڈوز)   

 نوٹ: پاک ویک کینسینو سنگل ڈوز ویکسین سعودی وزارت کی  منظور شدہ لسٹ میں نہیں ہے۔ اس صورت میں دوبارہ منظور شدہ ویکسین کا مکمل کورس اور نادرا سرٹیفکیٹ کا حصول لازمی ہوگا۔ 

(مزید معلومات کے لئے مکمل حج پالیسی کا انتظار کریں)


عمر کی حد:

حج 2023 میں عمر کی کوٸ حد نہیں تھی۔ امید ہے کہ امسال یعنی حج 2024 کے لئے بھی عمر کی حد مقرر نہیں ہوگی، یعنی کسی بھی عمر کے عازمین حج درخواست فارم جمع کروا سکتے ہیں۔ (  تفصیلات حج پالیسی میں مزید واضح ہونگی)


بینک اکاؤنٹ:

پچھلے سال کی طرح اس سال بھی ہر عازمین حج کے لئے خود کا ذاتی بینک اکاؤنٹ لازم ہونے کا امکان ہے۔ اگر کسی کا ذاتی اکاؤنٹ ابھی تک نہیں ہے تو وہ منتخب شدہ بینکوں کے  کسی بھی برانچ میں مستقل یا آسان اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں۔ (تفصیلات کیلٸے منسٹری کے اعلان کا انتظار کریں)۔


حج پیکج کی رقم: 

اس سال سرکاری اسکیم میں عازمین کے دو طرح کے پیکج متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ 

-- نارمل پیکج دورانیہ 40 سے 45 دن     

-- شارٹ پیکج دورانیہ 20 سے 25 دن    

دونوں پیکجز کے لئے رقم کا تخمینہ 11 لاکھ روپے کے قریب ہونے کے امکان ہیں۔ لہٰذا عازمین حج رقم کا ابھی سے بندوبست کرلیں۔ (پیکج کے حتمی رقم کا اعلان حج پالیسی میں کیا جائے گا۔)

Monday, November 13, 2023

 حج کیلٸے گروپنگ

 

 تجربہ یہ ہے کر اپنے جاننے والے، عزیز رشتہ دار، آس پڑوس، مسجد، آفس یا دوست احباب کے ساتھ مل کےگروپ بنایا جاٸے تو حج کے سفر میں بہت سہولت ہوتی ہے۔ درج ذیل تحریر میں گروپ بنانے کیلٸے کچھ گاٸیڈ لاٸن دی گٸی ہیں، عازمین ان کا بغور مطالعہ کریں۔ یاد رکھیں ایک دفعہ گروپ کی درخواستیں بینک میں جمع ہوجاتی ہیں اور منسٹری کے پورٹل پہ انٹری ہو جاتی ہے تو گروپ فاٸنل ہوجاتاہے اور اس میں ردوبدل نہیں ہوتا:


١۔ عازمین اپنی گروپنگ کی طرف اب مکمل توجہ دیں۔ یاد رکھیں بینک میں ایک وقت میں تمام گروپ کو اکٹھا درخواست جمع کرانے پڑے گی ورنہ ان کی گروپنگ ایک ساتھ نہیں ہوگی (خواتین کی نماٸندگی ان کے محرم کریں گے۔ انکو آنے کی ضرورت نہیں) ۔


٢۔ اگر آپ نے ابھی تک گروپ نہیں بنایا تو جتنے دن حج درخواست جمع کرانے کیلٸے باقی ہیں ان دنوں میں اپنے جاننے والوں، عزیز رشتہ دار، آس پڑوس، مسجد، آفس یا دوست احباب کے ساتھ مل کے گروپ بنالیں۔


٣۔ اپنے گروپ میں سے ایک مرد  گروپ لیڈر کی حیثیت سے سیلیکٹ کرلیں، کیونکہ تقریباً سبھی نٸے جانے والے ہوتے ہیں اس لٸے گروپ میں سے کوٸ مناسب آدمی منتخب کرلیں۔


٤۔ کم سے کم گروپ ایک ممبر کا اور زیادہ سے زیادہ 14 ممبرز کا ہوتا ہے۔


٥۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ صرف آپ لوگ گروپ میں ہوں اور آپ کے علاوہ کوٸ ایکسٹرنل نہ ہو تو آپ کو بینک والے کو اپنا گروپ ساٸز بتانا پڑے گا کہ مزید لوگ نہ گروپ میں ایڈ کریں، ورنہ وہ فل ساٸز گروپ بنانے کیلٸے مزید ممبرز ایڈ کرسکتا ہے جو آپکے جاننے والے نہیں ہوں گے۔


٦۔ یاد رکھیں ایک گروپ میں ہونے کا مطلب ہے کہ پورے گروپ کے حج کے سفر میں ایک ساتھ سب کے کام ہونگے:

۔ ایک ہی فلاٸٹ۔

۔ پورے سفر میں ایک ہی بس۔

۔ ایک ہی کمرہ یا گروپ ساٸز زیادہ ہونے کی صورت میں برابر برابر یا نزدیک کے کمرے۔

۔ اسی طرح گروپ کی خواتین بھی اکٹھا ہونگی۔

۔ منٰی عرفات میں اکھٹی ایک ہی خیمے میں رہاٸش۔

۔ وغیرہ

حج 2024 Hajj

 حج 2024 Hajj

13 نومبر 2023


اطلاعات کے مطابق حج پالیسی 2024 نومبر کے تیسرے ہفتے میں آنے کا امکان ہے۔ اب ان عازمین کیلٸے جو سرکاری اسکیم 2024 کے تحت حج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں حج کیلٸے درکار کاغذات کی تیاری کیلٸے بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ اگر ابھی بھی کاغذات مکمل نہیں ہیں تو درج ذیل ہدایات کے مطابق جلد سے جلد مکمل کرالٸے جاٸیں تاکہ بروقت کسی پریشانی سے بچ سکیں۔
حج 2024 کے لئے مطلوبہ کاغذات:
-- مشین ریڈایبل پاسپورٹ جس کی کم سے کم میعاد (ایکسپاٸری) 16 دسمبر 2024 ہونی چاہٸے۔  
--  نادرا سے جاری شدہ کار آمد (valid) اصل شناختی کارڈ
-- نیلے بیک گراٶنڈ کی 3x4 cm ساٸز کی چار عدد تصاویر۔
۔ بلڈ گروپ معلوم ہونا چاہٸے۔
۔ یاد رہے ایک مرد کے ساتھ محرم کی حیثیت سے چار خواتین درخواست جمع کرا سکتی ہیں۔
-- وارث یا ایمرجنسی رابطہ والے فرد کے شناختی کارڈ کی کاپی
-- نادرا سے جاری کردہ کرونا ویکسین سرٹیفکیٹ
کرونا ویکسین:
حج 2023 کے لئے سعودی وزارت حج کی منظور شدہ کورونا ویکسین کی فہرست نیچے درج ہے۔ عازمین کے لئے نیچے دی گئی فہرست میں سے کسی بھی ویکسین کا مکمل کورس اور نادرا سے جاری شدہ سرٹیفکیٹ اس سال حج کے لئے بھی لازمی ہوگا۔ 
سعودی وزارت کی منظور شدہ ویکسین:
(1)  فائزر (2 ڈوز)
(2)  ایسٹرازینیکا (2 ڈوز)
(3) موڈرونا (2 ڈوز)
(4) جونسن اینڈ جونسن (سنگل ڈوز)
(5) سائنو فارم (2 ڈوز)
(6) ساٸنو ویک (2 ڈوز)
 (7) کوویکسن (2 ڈوز) 
(8) سپیٹنک (2 ڈوز)
(9) کویکس (2 ڈوز) 
(10) نوویکسوویڈ (2 ڈوز) 
 نوٹ: پاک ویک کینسینو سنگل ڈوز ویکسین سعودی وزارت کی  منظور شدہ لسٹ میں نہیں ہے۔ اس صورت میں دوبارہ منظور شدہ ویکسین کا مکمل کورس اور نادرا سرٹیفکیٹ کا حصول لازمی ہوگا۔ 
(مزید معلومات کے لئے مکمل حج پالیسی کا انتظار کریں)
عمر کی حد:
حج 2023 میں عمر کی کوٸ حد نہیں تھی۔ امید ہے کہ امسال یعنی حج 2024 کے لئے بھی عمر کی حد مقرر نہیں ہوگی، یعنی کسی بھی عمر کے عازمین حج درخواست فارم جمع کروا سکتے ہیں۔ (  تفصیلات حج پالیسی میں مزید واضح ہونگی)
بینک اکاؤنٹ:
پچھلے سال کی طرح اس سال بھی ہر عازمین حج کے لئے خود کا ذاتی بینک اکاؤنٹ لازم ہونے کا امکان ہے۔ اگر کسی کا ذاتی اکاؤنٹ ابھی تک نہیں ہے تو وہ منتخب شدہ بینکوں کے  کسی بھی برانچ میں مستقل یا آسان اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں۔ (تفصیلات کیلٸے منسٹری کے اعلان کا انتظار کریں)۔
حج پیکج کی رقم: 
اس سال سرکاری اسکیم میں عازمین کے دو طرح کے پیکج متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ 
1-- نارمل پیکج دورانیہ 40 سے 45 دن  
2-- شارٹ پیکج دورانیہ 20 سے 25 دن 
دونوں پیکجز کے لئے رقم کا تخمینہ 11 لاکھ روپے کے قریب ہونے کے امکان ہیں۔ لہٰذا عازمین حج رقم کا ابھی سے بندوبست کرلیں۔ (پیکج کے حتمی رقم کا اعلان حج پالیسی میں کیا جائے گا۔)

Monday, November 6, 2023

زندگی کی دکھ بھری کہانی

 آج میں آپ سب کو اپنی زندگی کی دکھ بھری کہانی سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں۔ پہلے میں اپنا تعارف کروا دوں۔ میں ایک آسٹریلئین مادہ ہوں۔ میرے مالکان بہت اچھے تھے۔ جب میں اور میرا ہمسفر ان کے گھرآۓ تب سے جیسے ہم ان کے خاندان کا حصہ ہی بن گۓ۔ وہ ہمارا ہر طرح سے بھرپور خیال رکھتے۔ میں نے سن رکھا تھا کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس خطا کے پتلے سے ناجانے کیسے ایک اتنی بڑی غلطی سر ذد ہو گئ کہ اسے خود بھی پتا نہ چلا۔ اس بات کا اندازہ اسے اسوقت ہوا جب بہت دیر ہو چکی تھی اور پانی حقیقی معنوں میں سر سے گزر چکا تھا۔


ہمارے مالک نے ہمارے لۓ ایک چھوٹے مگرصاف ستھرے مسکن کا انتظام کر رکھا تھا۔ میں اور میرا شوہر سکون سے اپنے گھر میں مکین تھے۔ وقت پر دانہ پانی دیا جاتا اور صفائ کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ ان کے بچے سکول سے آتے ہی ہمارے پاس آ جاتے اور ہم سے ہمارا حال احوال دریافت کرتے اور باتیں کرتے۔ ان بچوں کا اتنا اپنائیت بھرا رویہ ہمیں مزید خوش کر دیتا۔

ایک دن ہمارے گھر کا دروازہ کھولا گیا اور ہم نے ایک اجنبی کو اپنے گھر میں داخل ہوتے دیکھا۔ وہ میری ہی طرح کی مادہ آسٹریلیئن طوطی تھی۔ شروع میں تو ہمیں بہت غصہ آیاجیسے انسان اپنا گھر خوش دلی سے کسی کے ساتھ بانٹنا پسند نہیں کرتا بالکل اسی طرح ہمیں بھی اپنا مسکن شیئر کرنا ناگوار تو گزرا مگر ہمارے بس میں کچھ نہ تھا۔

کچھ دنوں بعد آخر کار وہ لمحہ آگیا جس کا ہمیں شدت سے انتظار تھا۔ اللہ کی کرم نوازی ہوئ اور اس نے ہمیں والدین بننے کا شرف بخشا اور ہمارے ہاں تین انڈے ہوۓ۔ یہ خبرمیرے اور میرے شوہر کے لۓ نہایت خوشی کا باعث تھی۔ میرے شوہر نے شور مچا مچا کر مالکان کو بھی متوجہ کر لیا اور وہ بھی یہ جان کر خوب خوش ہوۓ۔

ہم اپنی خوشی میں یہ یکسر بھول گۓ کہ ہمارے گھر میں کوئ اور بھی ہے جس کو ہماری یہ خوشی ذرا بھا نہیں رہی ہو گی۔ اس مادہ طوطی نے تو اسکے بعد سے میرے ساتھ باقاعدہ لڑائ جھگڑا شروع کردیا۔ میں حتٰی الامکان اس سے دور رہنے کی کوشش کرتی، اکثر تو میرا شوہر بھی مدد کرتا۔ مگر ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس طوطی کے اندرحسد اور جلن کا لاوہ پک رہا ہے۔

چند دنوں بعد دو انڈوں سے میرے بچے باہر آ گۓ۔ بس پھر کیا تھا میری اور میرے شوہر کی ذمہ داری میں مزید اضافہ ہو گیا۔ بچوں کی دیکھ بھال، انہی کھانا کھلانا وغیرہ۔

ایک رات میرا شوہر گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ میں اپنے بچوں کو سلا رہی تھی، جبھی تھکن کی وجہ سے مجھے بھی اونگ آگئ۔ رات کے اندھیرے میں، میں نے کسی کو اپنے گھر داخل ہوتے دیکھا۔ نیند کے باعث آنکھیں خمار ذدہ تھیں۔ میں نے یہی گمان کیا کہ میرا ہمسفر ہی ہو گا۔ چند لمحوں بعد وہ دوبارہ نہایت خاموشی سے باہر چلا گیا۔ مجھے حیرت ہوئ مگر میں نے ذیادہ دھیان نہ دیا۔ اگلے روز علی الصبح ہم نے دیکھا کہ ہمارا جو انڈا رہ گیا تھا وہ ٹوٹا ہوا تھا جیسے کسی نے جان بوجھ کر اسے نقصان پہنچایا ہو۔ میرا شک تو اس طوطی پر ہی گیا کہ اس نے ہی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ ہمارے مسکن میں گھس کر وار کرنے کی ٹھانی ہو گی بالکل کسی بزدل دشمن کی مانند۔ بہرحال ہم نے صبر سے کام لیا۔ مہینے بعد ہی ہمیں ہمارے بچے کافی بڑے محسوس ہونے لگے تھے۔

ایک دن میں اپنا دانہ کھانے میں مصروف تھی جبکہ میرا شوہر گھر پر بچوں کی حفاظت کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ یک دم مجھے اپنے گھر سے شور شرابے کی آواز آئ، جس میں ہمارے معصوم بچوں کی چیخیں کہیں دب کر رہ گئ تھیں۔ میں فوراً اپنے گھر کی طرف لپکی تو ایک عجیب منظر میری نظروں کے سامنے تھا۔ حاسد طوطی ہمارے بچوں پر حملہ آور تھی اور میرا شوہراپنی سی کوشش میں مصروف تھا کہ انہیں بچا سکے۔ میری تو آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا۔ میں نے ایک ذبردست حملہ اپنی مخالف پر کیا جو میری موجودگی سے کسی قدر غافل تھی۔ بس پھر کیا تھا یوں سمجھیں میدان جنگ میں گھمسان کا رن پڑا۔ میرا شوہر فوراً ہی باہر چلا گیا۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ چلیں آپ کی الجھن کو سلجھا دوں کہ نر طوطے اپنے آپ کو ایسے موقعوں پر بالکل الگ تھلگ کر لیتے ہیں جب مادہ طوطیوں میں لڑائ ہو رہی ہو۔

بس پھر کیا تھا مجھے نہ صرف اپنا دفاع آپ کرنا تھا بلکہ اپنے بچوں کو مزید کسی نقصان سے بچانا کی ذمہ داری بھی میرے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی تھی۔ اسی لڑائ میں مجھے بھی کافی زخم آۓ۔ گو میں طاقت میں اپنے مخالف کے بہت کمزور تھی پھر بھی رب تعالٰی کی مدد سے میں اس ظالم طوطی کو گھر سے بھگانے میں کامیاب ہو گئ۔ میرا یہ سب کرنا بے سود ٹھہرا تھا کیونکہ ہم پر قیامت ٹوٹ چکی تھی۔ میں تو زخمی ہوئ ہی تھی مگر میرے بچوں پر جس وحشیانہ انداذ میں حملہ کیا گیا تھا وہ ننھی جانیں اس تکلیف اور گہرے زخموں کا مقابلہ نہ کر پائیں اور ہمارے دونوں بچے اللہ کو پیارے ہوگۓ۔

دو دن بعد جب ہمارے مالک نے محسوس کیا کہ اب تک بچوں کو اپنے گھر سے باہر آ جانا چاہیۓ مگر وہ نہیں آ رہے تو انہوں نے ہمارے گھر کی صفائ کی جو وہ بچوں کی وجہ سے نہیں کر پا رہے تھے۔ اس دن ان پر منکشف ہوا کہ ہمارے بچے تو مارے جا چکے ہیں۔ تب انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے دوسری طوطی کو ہمارے گھر میں جگہ دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی۔ انہوں نے اس طوطی کو فوراً دوسرے گھر منتقل کر دیا۔ مگر ایسا کرنا بے سود رہا کیونکہ جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہو چکا تھا۔

بچوں کی موت کے صدمے نے مجھے جیسے توڑ کر رکھ دیا تھا، کھانا کھانا اچھا لگتا تھا نہ شوہر سے بات چیت کرنا۔ آخر کار شدتِ غم کی وجہ سے میری ٹانگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ میرے مالک نے جب یہ بات محسوس کی تو مجھے جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے گۓ۔ جس نے بتایا کہ مجھے فالج ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ مجھے ان کے پاس ہی چھوڑ دیا جاۓ۔ انہوں نے مجھے ایک بڑے سے پنجرے میں رکھ لیا جہاں اور بھی پرندے مختلف بیماریوں کی وجہ سے رکھے ہوۓ تھے۔

وہ دن اور آج کا دن میرا مسکن یہی ہے۔ آج بھی مجھے اپنا پیارا گھر، شوہر اور بچے یاد آتے ہیں تو آنکھیں بھر آتی ہیں۔ کاش انسان اس بات سے آگاہ ہو کہ ہمارے جذبات و احساسات کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے اور ہم بھی ان ہی کی طرح حسد اور جلن کی بیماری میں مبتلا ہوکر دوسروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

وہ مشروب جو کورونا وائرس ویکسین لگوانے والوں کو کسی صورت نہیں پینا چاہیے، سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی

 برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ماہرین نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ اگر آپ کو کورونا وائرس کی ویکسین دی گئی ہے تو اس عرصے میں آپ کو شراب نوشی سے قطعی گریز کرنا چاہیے ورنہ یہ ویکسین آپ پر بے اثر رہے گی کیونکہ شراب ویکسین کے لیے جسم کے امیون ریسپانس کو کم کر سکتی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر شینا کروئیکشینک کا کہنا تھا کہ شراب انسان کی مقعد اور بڑی آنت میں پائے جانے والے اربوں بیکٹیریا کی تشکیل کو تبدیل کرکے رکھ دیتی ہے۔

یہ بیکٹیریااور ان کی تشکیل انسان کو بیکٹیریا اور وائرسز کے حملے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگر اس تشکیل میں بگاڑ آ جائے تواس سے خون میں موجود مدافعتی خلیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ان مدافعتی خلیوں کو ہم وائٹ بلڈ سیلز کے نام سے جانتے ہیں اور لمفوسائٹس بھی انہی میں شامل 


/b>

ہوتے ہیں۔

یہ کسی وائرس کے حملے کی صورت میں اینٹی باڈیز کو اس پر حملہ کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ جب

 یہ خلیے کمزور ہوں گے تو کورونا وائرس کی ویکسین پوری طرح موثر ثابت نہیں ہو سکے گی۔

ٹائٹینک کی ناقابل تسخیر حقیقت

 



۱۰ اپریل۱۹۱۲، RMS TITANIC اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جہاز تھا۔ یہ اپنے پہلے سفر پر نکلتا ہے۔ انگلستان سے نیو یارک جا رہا تھا۔ تمام قسم کے لوگ سوار تھے، صنعت کار اور اداکار نیز تارکین وطن، جو بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ جا رہے تھے۔ اس کی کمان ۶۲ سالہ سینئر کیپٹن ایڈورڈ جان سمتھ کر رہے تھے اس وقت اس جہاز کو بنانے میں ۷۔۵ ملین ڈالر کی لاگت آئی تھی، اگر آپ افراط زر کو مدنظر رکھیں تو یہ آج کے ۴۰۰ ملین ڈالر کے برابر ہے! اسے نہ ڈوبنے والا جہاز کہا جاتا تھا! یہ اتنا ہی محفوظ تھا۔ اس جہاز کو بنانے والی کمپنی کا نام وائٹ اسٹار لائن تھا۔ اس کمپنی کا نائب صدر اتنا پر اعتماد تھا کہ اس نے پوری دنیا کے سامنے اعلان کیا کہ یہ جہاز ڈوب نہیں سکتا۔

لیکن دو دن بعد اپنے پہلے سفر پر روانہ ہونے کے بعد، ۱۲ اپریل، ۱۹۱۲ کو ٹائٹینک کو برف کی پہلی وارننگ ملی اور۱۴ اپریل،۱۹۱۲ کو "سال کی سرد ترین رات"۔ نہ ڈوبنے والے ٹائٹینک کو ڈوبنے میں صرف ایک آئس برگ لگا، لیکن آج ٹائٹینک بہت سی کمپنیوں کی آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ٹائٹینک کی کھوئی ہوئی روحیں فروخت ہو رہی ہیں۔
ٹائٹینک کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے آج لاکھوں ڈالر میں فروخت ہورہے ہیں، CAVIAR نامی امریکی کمپنی اپنی مرضی کے مطابق آئی فون بناتی ہے جس پر ٹائٹینک کا ٹکڑا ہوتا ہے اور یہ فونز اصل فون کی قیمت سے تین گنا زیادہ میں فروخت کرتے ہیں۔

آج ہم ان لوگوں کی قربانی بھول چکے ہیں جنہوں نے ٹائی ٹینک پر جانیں دیں، ان امیروں نے ان غریبوں اور نادار بچوں اور خواتین کے لیے اپنی جانیں دے دیں کیونکہ جہاز میں لائف بوٹس کم تھیں۔
اب ٹائٹینک بحر اوقیانوس سے بخارات بن رہا ہے اور ۲۰۳۵ تک یہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

بچوں پرقیامت گزر چکی ہے

میں حسب معمول صبح کی پہلی زیر زمین گاڑی سے اپنے کام کی طرف جا رہا تھا۔ گاڑی کے کچھ مسافر پر سکون انداز میں بیٹھے اخبار کے مطالعے میں مصروف تھے تو کچھ اپنی سوچوں میں گم اور کئی ایک تو بیٹھے اونگھ بھی رہے تھے۔ سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا کہ اچانک ایک سٹیشن سے ایک آدمی اپنے دو بچوں کےساتھ گاڑی میں سوار ہوا۔ بچے کیا تھے  
کہ آفت کا پرکالا تھے، انہوں نے آتے ہی گاڑی میں وہ اودھم مچایا کہ الامان الحفیظ۔ ٹک کر بیٹھنا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ مگر اس سب سے بر عکس ان بچوں کے ساتھ گاڑی پر سوار ہونے والا شخص میرے پہلو میں ان سب باتوں سے بے خبر اپنی آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا۔ بچے ایک دوسرے سے لڑنے اور جھگڑنے اور خوب چیخ و پکار کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر چیزیں بھی اُٹھا کر پھینک رہے تھے۔ مسافر بھی بچوں کے شر سے محفوظ نہیں تھے کیوں کہ بچے کبھی کبھار تو مسافروں سے اخبار چھین کر بھاگ رہے تھے تو کبھی مسافروں کے اخبار پھاڑ رہے تھے۔ جبکہ یہ شخص ان سب باتوں سے بے نیاز بے حس اور ساکن بیٹھا تھا۔ 
 مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس دنیا میں کوئی شخص اتنا بھی احساس سے عاری اور اسقدر گھٹیا ہو سکتا ہے کہ بچوں کو اودھم مچانے کی کھلی چھٹی دیکر بیٹھ جائے؟ میرا صبر جواب دے گیا۔ میں نے اس شخص سے مخاطب ہوکر کہا، جناب آپ کے بچوں نے پوری گاڑی میں سوار لوگوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے، آپ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ آپ پر اس سب کچھ کا ذرا برابر بھی اثر نہیں ہو رہا؟ آدمی نے اپنی آنکھیں کھولیں اور گردو نواح پر ایک نظر ڈالی اور سب کچھ ایسے دیکھا گویا پہلی بار یہ سب کچھ دیکھ رہا ہو۔ اس نے بڑی نرمی سے مجھے کہا، جی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ مجھے اس صورتحال کا تدارک کرنا چاہئے۔ ہم لوگ ابھی ابھی ایک ہسپتال سے آ رہے ہیں جہاں گھنٹہ بھر پہلے ان بچوں کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے۔
 میرا دماغ سوچنے سے عاجز ہوا بیٹھا ہے کہ ان بچوں کو اس صدمے سے کیسے آگاہ کروں اور ان بچوں کو بھی کچھ احساس نہیں ہے کہ ان پر کیسی قیامت گزر چکی ہے اور وہ کیسے اس صورتحال کا سامنا کریں گے۔ کوفی کہتا ہے کہ آپ خود اندازہ کیجئے یہ سب کچھ سن کر میرا کیا حال ہوا ہوگا؟ چند لمحات پہلے تک اگر میں بچوں پر تلملایا اور جھنجھلایا بیٹھا تھا تو اب میرا دل بچوں کیلئے رحم اور ترس سے بھرا ہوا تھا۔ میں اس گھمبیر صورتحال کا خوب اندازہ کر سکتا تھا، دل تھا کہ رونے کو آ رہا تھا مگر میں نے جس انداز سے اس آدمی سے بات کی تھی اس پر خجالت بھی اپنی جگہ پر تھی۔ آخر میں نے ہمت کر کے اس سے پوچھ ہی لیا تو گویا گھنٹہ بھر پہلے آپ کی گھر والی کا انتقال ہو گیا ہے؟ مجھے یہ سب جان کر بہت صدمہ ہوا ہے۔ کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟ جی یہ قصہ بس اتنا سا ہی تھا جو ختم ہو گیا ہے۔مگر۔۔۔۔۔ اس قصے کو سن کر جو محسوسات پیدا ہوتے ہیں وہ کچھ یوں ہیں کہ : ہمارے عجلت میں کئے ہوئے فیصلے اکثر و بیشتر بد گمانی اور بد ظنی پر مبنی ہوتے ہیں جو صحیح اسباب جاننے کے بعد ہمارے لئے ندامت اور پشیمانی کا باعث بنتے ہیں۔ گویا ہم کئی بار دوسروں پر ظلم کر کے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔ 

Cheapest countries to live in the world:

Cheapest countries to live in the world: 1. Pakistan 2. Egypt 3. India 4. Nigeria 5. Libya 6. Syria 7. Nepal 8. Bangladesh 9...